آیا گیری

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آیا کا پیشہ، کسی کے بچے کھلانے کی نوکری۔ "شوہر کے انتقال کے بعد گریس نے بمبئی میں مختلف جگہوں پر آیا گیری کی تھی۔"      ( جلاوطن، ١٩٦٧ء، ١٠١ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'آیا' کے ساتھ فارسی مصدر 'گرفتن' سے مشتق صیغہ امر 'گیر' کے ساتھ 'ی' لاحقہ نسبت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٦٧ء میں "جلاوطن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آیا کا پیشہ، کسی کے بچے کھلانے کی نوکری۔ "شوہر کے انتقال کے بعد گریس نے بمبئی میں مختلف جگہوں پر آیا گیری کی تھی۔"      ( جلاوطن، ١٩٦٧ء، ١٠١ )

جنس: مؤنث